وادی کرناہ آزاد کشمیر کی تیسری اور خوبصورت ترین وادی، ’’وادی لیپہ‘‘ ہے۔ وادیٔ کرناہ میں حد نگاہ تک بکھرا ہوا سبزہ ہی سبزہ‘ گھنے جنگلات سے ڈھکے پہاڑ اور اُن کے دامن میں اونچے نیچے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کسان ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ یہاں کثرت سے اخروٹ اور سیب کے درخت پائے جاتے ہیں۔ وادیٔ لیپہ جانے کے لیے ایک سڑک دریائے جہلم کے ساتھ چکوٹھی کی طرف جانے والی سڑک سے مظفر آباد سے 45 کلو میٹر کے فاصلے پرایک جگہ الگ ہوتی ہے اور دریا کو عبور کرنے کے بعد پہاڑوں میں بل کھاتی ہوئی 3200 میٹر کی بلندی پر واقع ریشیاں گلی پہنچتی ہے۔ یہاں سے یہ سڑک پھر نیچے اترتی ہے اور سولہ سو میٹر نشیب میں واقع وادیٔ لیپہ تک پہنچ جاتی ہے۔ یہاں مکانات زیادہ لکڑ ی سے بنے ہوئے ہیں اور کشمیر کے روایتی طرز تعمیر کو ظاہر کرتے ہیں۔ وادیٔ کرناہ چاروں طرف سے برف پوش پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے اوراس کے درمیان میں ایک صاف و شفاف ندی رواں ہے۔ اپنے حسین مناظر کی وجہ سے وادیٔکرناہ کو ’’منی کشمیر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وادیٔ لیپہ میں سیاحت کے لیے مئی سے نومبر تک کا موسم مناسب ہے۔ اس کے بعد یہاں شدید برف باری شروع
لائبہ اور ثنا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی دو بہنیں لائبہ اور ثنا سنیچر کو غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کر گئی تھیں جس کے بعد انڈین حکام نے انھیں پاکستان کے حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
Right you
ReplyDelete